ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایف اے ٹی ایف کی سفارشات: انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل پاکستانی قومی اسمبلی سے منظور

ایف اے ٹی ایف کی سفارشات: انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل پاکستانی قومی اسمبلی سے منظور

Thu, 13 Aug 2020 17:15:34    S.O. News Service

اسلام آباد، 13/اگست(آئی این ایس انڈیا)پاکستان کی قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ یہ بل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سفارشات کی روشنی میں منظور کیا گیا ہے۔ بل کے تحت کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کو قرض یا مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندی ہو گی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ بدھ کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 پیش کیا۔ حکومتی اتحاد کے علاوہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے بھی انسداد دہشت گردی بل کی حمایت کی۔منظور کیے گئے بل کے تحت کوئی بینک یا مالی ادارہ ممنوع شخص کو کریڈٹ کارڈز جاری نہیں کر سکے گا۔ پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ تصور ہوں گے اور منسوخ شدہ اسلحہ جات ضبط کر لیے جائیں گے۔منسوخ شدہ اسلحہ رکھنے والے کو نیا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ منسوخ شدہ اسلحہ رکھنے والے کو سزا دی جا سکے گی۔ترمیمی بل کے مطابق دہشت گردی میں ملوث افراد کو پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ قانون پر عمل درآمد نہ کرنے والے کو پانچ سے 10 سال قید کی سزا ہو گی۔پاس کیے گئے بل کے تحت ممنوع تنظیموں یا اشخاص کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ایسے افراد کی رقم، جائیداد بغیر کسی نوٹس کے منجمد اور ضبط کر لی جائے گی۔ دہشت گردی میں ملوث شخص کی سفری دستاویزات اور اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکیں گے۔   


Share: